اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سعودی فضائیہ نے ہفتے کے روز صنعاء کے نقم،عطان، السبعین اور النہدین کے علاقوں پر 26 فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں السبعین خواتین و بچوں کے اسپتال کے قریب بھی بمباری کی گئی، جس سے اسپتال کی عمارت، اندرونی حصوں اور طبی آلات کو شدید نقصان پہنچا۔
صنعاء کی وزارت صحت و ماحولیات نے ایک بیان میں کہا کہ اسپتال کے قریب حملہ ایسے وقت کیا گیا جب وہاں مریضوں اور شہریوں کی آمدورفت عروج پر تھی۔ وزارت کے مطابق حملے کے نتیجے میں بعض افراد زخمی ہوئے جبکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایک یمنی شہری یحییٰ غثیم نے حملے کے اثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں موجود مریض خوف کے باعث زمین پر گر پڑے، جبکہ ان کا نواسہ بھی بمباری کے دوران اپنی والدہ کی گود سے گر گیا اور خوف کے باعث اس کی والدہ بے ہوش ہوگئیں۔
دوسری جانب تعز کے محاذ پر یمنی مسلح افواج کی وسیع پیش قدمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یمنی فورسز نے صوبے کے مغربی اور مرکزی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے التربہ کے اطراف میں متعدد علاقوں پر فائر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
یمنی فوج کے ماہر بریگیڈیئر عابد الثور نے دعویٰ کیا کہ یمنی فورسز نے تعز کے مغربی اور مرکزی علاقوں میں متعدد مقامات کو کلیئر کرکے ذوباب اور احیوق تک پیش قدمی کی ہے، جبکہ مرکز الحجری سمیت متعدد اہم علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی فورسز کی جانب سے مقامی آبادی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ شہریوں، ان کے گھروں اور تجارتی سرگرمیوں کو تحفظ حاصل ہوگا، تاہم اندر سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کی مدد کی کسی بھی کوشش کا فوجی جواب دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق تعز میں یمنی پیش قدمی اور صنعاء پر سعودی فضائی حملوں میں اضافے کے باعث یمن میں جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ یمنی مسلح افواج نے سعودی عرب کی سرزمین کے اندر میزائل، فضائی اور ڈرون کارروائیوں میں اضافے کی تیاری کا بھی اعلان کیا ہے، جبکہ بعض حساس سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
آپ کا تبصرہ